Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Recent

Misc

Technology

بائیں کروٹ سونے کے بھی کئی فائدے ہیں جن سے ہم آج تک لا علم تھے۔

بائیں کروٹ سونے کے بھی کئی فائدے ہیں جن سے ہم آج تک لا علم تھے۔



رات کو بستر پر سونے کا انداز انسانی زندگی پر گہرا اثررکھتا ہے، ہم نے اکثر اپنے بزرگوں اور بڑوں کو کہتے سنا ہے کہ دائیں کروٹ سے سونا چاہیے مگر بائیں کروٹ سونے کے بھی کئی فائدے ہیں جن سے ہم آج تک لا علم تھے۔
نظامِ ہضم میں تیزی اکثر لوگوں کو معدے کی کئی شکایات کا سامنا ہوتا ہے جن میں پیٹ بھاری رہنا،قبض اور متلی آنا شامل ہے۔ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق بائیں کروٹ سے سونا ہاضمے کوبہتر اور تیز بناتا ہے کیونکہ معدہ بائیں جانب ہوتا ہے اور جب ہم سوتے ہیں تو معدے سے ہماری غذا باآسانی آنتوں میں منتقل ہوجاتی ہے جس سے نظامِ ہضم بہترین انداز میں کام کرنے لگ جاتا ہے۔ 
سینے کی جلن سے نجات ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیں کروٹ سونے سے سینے کی جلن میں کمی آتی ہےاس سے ہمارے معدے میں پائے جانے والے کیمیکلزمعدے کی اوپری سطح سے حلق میں نہیں آپاتےاور سینے کی جلن نہیں ہوتی۔
خون کی روانی ہمارا ’دل‘ ایک ایسا اعضا ہے جو 24 گھنٹے مسلسل مشقت کرتا رہتا ہےلیکن اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو کئی جان لیوا بیماریاں دستک دینے لگ جاتی ہیں۔ پورے جسم کوصحیح طور پہ خون کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ رات میں اس کےکام میں دشواری نہ پیدا کی جائے۔ بائیں کروٹ سے سونے کی وجہ سے دل کے شریانوں کو خون کی روانگی میں زیادہ طاقت اور زور آزمائی نہیں کرنی پڑتی جس سے دل ہمیشہ جوان رہتا ہے اور تمام اعضاء تک باآسانی خون پہنچاتا رہتا ہے۔
کمر کے درد میں آرام بعض لوگوں کو شکایت ہوتی ہے کہ 8 گھنٹے کی نیند کے باوجو وہ صبح خود کو بوجھل اور تھکا ہو ا محسوس کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو کمر اور کندھوں کے درد کی شکایت پریشان کرتی رہتی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق بائیں کروٹ سونے سے کمر پر زور نہیں پڑتا اور پٹھوں میں کچھائومیں بھی کمی آتی ہے۔ 
حاملہ خواتین کی بہتر صحت خواتین کو دوران ِحمل کئ پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے جن میں ایک نیند میں بے آرامی ،ہائی بلڈ پریشر اورجسم کے مختلف حصوں میں درد ہونا شامل ہے۔ ماہرین ِصحت کے مطابق حاملہ خوتین کی نیند میںجتنا کم سے کم خلل پیدا ہو اتنی ہی ان کی صحت اچھی رہے گی۔بائیں کروٹ سونے سے نہ صرف بلڈ پریشر کی پریشانی واقع نہیں ہوتی بلکہ کمردرد میں بھی کمی آتی ہے۔ 
خراٹوں‘ سے چھٹکارا اگر آپ بھی اپنی یا اپنے ساتھی کی خراٹے لینے کی عادت سے پریشان ہیں تو اب آپ پُرسکون نیند کا مزہ ضرور لے پائیں گے۔ نیند میں ہماری زبان،حلق اور تالو مکمل آرام کی حالت میں ہوتے ہیںاور سانس لینے کو دوران ہوا کے دبائو سے منہ کھل جانے کے باعث خراٹوں کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیں کروٹ سونے سے سانس کی نالیوں میں روانگی پیدا ہوتی ہے اور ہوا کا دبائو پیدا نہیں ہوتا جس سے خراٹوں کی شکایت بھی پیدا نہیں ہوتی

فارمی چکن 🐓 - ایک دل چسپ رپورٹ

فارمی چکن 🐓 - ایک دل چسپ رپورٹ





چکن آج امیر غریب ، چھوٹے بڑے سب کی پسندیدہ غذا ہے۔ دو ڈھائی عشروں میں ہی اس کا رواج بڑھا ہے۔
 
اصل میں یہ چوزے یعنی Chicks ہیں ۔ اس لئے ان کے گوشت کو Chicken کہا جاتا ہے۔ مرغی تو Cock یا Hen ہے۔


اس چکن کی افزائش پہ اگر نظر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک فارمی چوزہ صرف ڈیڑھ دو ماہ میں مکمل مرغی کے سائز کا ہو جاتا ہے۔ آخر کیوں ؟

جبکہ دیسی چوزہ تو چھ ماہ میں مرغی جیسا ہوتا ہے مکمل مرغی تو وہ سال میں بنتا ہے۔

اس فارمی چوزے کو جو غذا دی جاتی ہے اس میں ایسے ہارمونز Steroids اور کیمیکل ڈالے جاتے ہیں جو ان کی افزائش کو غیر فطری بڑھا دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کی فیڈ میں مختلف جانوروں کا خون جو مذبح خانوں سے مل جاتا ہے ، جانوروں کی آلائش ، مردار جانوروں کا گوشت اس فیڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایک نجی ٹی وی چینل نے لاہور کے مذبح خانوں پر ایک دستاویزی فلم پیش کی تھی جس میں ان فارمی مرغیوں کی خوراک کے بارے میں بھی دکھایا گیا تھا۔اس خوراک کا بیشتر حصہ خون ، آنتیں اور دیکر فضلات پر مشتمل ہوتا ہے۔

یہ فیڈ کھا کر یہ نومولود چوزے 6 سے 8 ہفتوں میں ہمارے پیٹ میں پہنچنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ یہ چوزے 🐓 بڑے ہونے کے باوجود بھاگنے اڑنے سے قاصر ہوتے ہیں کیونکہ ان کا جسم پھولا اور سوجا ہوا ہوتا ہے۔ جو کہ اسٹئرائڈز کا کمال ہوتا ہے۔ اسطرح کے اسٹئرائڈز باڈی بلڈر اور پہلوان استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی آخری عمر بستر پہ گذرتی ہے۔

اس فارمی مرغی🐓 کے مقابلے میں دیسی چوزہ جوکہ 6۔8 مہینوں تک چوزہ ہی رہتا ہے کو پکڑنا چاہیں تو بڑے آدمی کو بھی دانتوں پسینہ آجاتا ہے جبکہ فارمی مرغی🐓 کو ایک بچہ بھی آسانی سے پکڑ لیتا ہے۔

یہ فارمی چکن ہمارے معاشرے میں "ہائی پروٹین ، کولیسٹرول فری گوشت" کے نام سے رواج پاگیا ہے۔ 
حتٰی کہ ڈاکٹر حضرات بھی سارے گوشت بند کرکے فارمی چکن🐓 ہی تجویز کرتے ہیں جوکہ خود بیماریوں کی وجہ ہے۔

آئیے اب اس ہائی پروٹین والے سفید گوشت کے نقصانات دیکھتے ہیں۔

1۔ موٹاپا ، جسم پر چربی خاص طور پہ گردوں اور جگر پر۔
2۔ جوڑوں کا درد ، خاص طور پہ ہڈیوں کا بھر بھرا ہوجانا۔
3۔ بچے بچیوں میں جلد بلوغت کے آثار۔
4۔ اسٹیرائزڈ مرغیوں کا گوشت کھانے کی وجہ سے جسم کا مدافعتی نظام کا شدید کمزور پڑجانا جس کی وجہ سے آئے دن بیمار رہنا۔
5۔ مردوں میں کمزوری اور خواتین میں ایام کی بے قاعدگی کی شکایت۔

یہ چند چیدہ چیدہ نقصانات ہیں جو کسی میں جلد اور کسی میں کچھ عرصے بعد ظاہر ہوتے ہیں۔

زبان کا ذائقہ اور جلد پک جانے کی سہولت اس کے نقصانات کے مقابلے میں بہت ہی حقیر فائدے ہیں۔

جیسی غذا ہم کھاتے ہیں ویسی ہی صحت ہم پاتے ہیں۔ غذا میں دالوں سبزیوں کا استعمال بڑھائیں۔

گوشت میں بلترتیب:

مچھلی 🐠🐟🐬🐳، 
بکرے یا دنبہ 🐏🐐، 
اونٹ 🐫🐪اور آخر میں
بڑے🐂🐃 کے گوشت کی افادیت ہے۔

آیئے اپنے لئے اپنی آئیندہ صحت مند نسلوں کے لئے ہم اپنی خوراک پہ نظر ثانی کریں۔